فیصل آباد: نجکاری کے خلاف فیسکو کا احتجاجی جلسہ

| رپورٹ: بابو ولیم |
fesco workers meeting against privatization (3)پورے ملک میں پاکستان ورکرزکنفیڈریشن کے تحت مورخہ 8 اپریل کو نجکاری کے خلاف جلسے منعقد ہوئے۔ عبداللہ پور فیصل آباد میں جلسے کی قیادت ریجنل سیکرٹری سرفرازاحمد ہندل، رانا غلام جعفر ریجنل چیئرمین، چوہدری عبدالغفار گجر، شیخ ساجد محمود، منیرغنی، میاں فاروق، غلام مصطفے، چوہدری محمد رفیق، انیس سندھو، رانا محمد بوٹا نے کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرحکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا توآئندہ ہربدھ کو پورے پاکستان میں تمام واپڈا دفاترکی تالہ بندی ہوگی اورکام بند کر کے احتجاجی fesco workers meeting against privatization (2)ریلیاں نکالی جائیں گی۔ فیسکو ہیڈ کواٹر، کمپیوٹر، فنانس ڈائریکٹر، جی ایس او، جی ایس سی تمام دفاتر بند ہوں گے۔ فیسکو سی بی اے یونین کے ریجنل سیکرٹری سرفرازاحمد ہندل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منافع بخش اداروں کو اونے پونے فروخت کرنے کی بجائے انھیں فعال کیا جائے اوربجلی پیدا کرنے کے زیادہ سے زیادہ سورسزمہیا کیے جائیں جن سے عوام کووافرمقدارمیں سستی بجلی مہیا کی جاسکے کیونکہ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے۔ فیصل آباد میں بند پڑے ہوئے پاورہاؤس کو گیس اور فرنس آئل مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، سروس اور منافع کے اعتبار سے پاکستان کی نمبر 1 fesco workers meeting against privatization (1)کمپنی ہے جس کو افسر شاہی اور آئی پی پیز برباد کر رہے ہیں، اسکی نجکاری کے متعلق سوچ کو ختم کیا جائے، ہم کسی قیمت پرنجکاری کے مکروہ منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے۔ نجکاری کی لعنت مزدور اور عوام کیخلاف کھلا جرم ہے۔
جلسے میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے کارکنان نے بھی بھرپور شرکت کی۔PTUDC کے عمررشید نے تقریرکرتے ہوئے نجکاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی اورنجکاری کومزدوروں کی موت قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے محنت کشوں سے نعرہ لگوایا کہ ’’خورشید صاحب ہک کم کرو، حکمراناں دی بجلی بند کرو‘‘ (خورشید صاحب ایک کام کریں، حکمرانوں کی بجلی بند کریں) جسکا تمام محنت کشوں اورقیادت نے بھرپور جواب دیا۔ اس موقع پر کثیرتعداد میں مزدورنامہ اورطبقاتی جدوجہد رسالہ فروخت ہوا۔