| رپورٹ: ایم ڈی آزاد |
افسران کی پولیس کے ساتھ مل کر بدترین غنڈہ گردی اور لیڈر شپ کی غداری کے باوجود ضلع قصور میں واپڈا کے ہزاروں ملازمین نے جاری ہڑتال اور تالا بندی ختم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ ہڑتال اور تالا بندی ساتویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ واپڈا ہائیڈروورکرز الیکٹرک یونین اور ایس ای قصور عبدالطیف انجم کے مابین تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ہفتے نجکاری کیخلاف واپڈا کے ملازمین نے ملک کے دوسرے حصوں کی طرح احتجاجی ہڑتال کے ساتھ ساتھ تالا بندی کی اور ریلیاں نکالیں۔

موجودہ حکومت جو واپڈا کی نجکاری کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے نے مبینہ طور پر ملک بھر کی دیگر کمپنیوں کے ساتھ ساتھ لیسکو کے چیف کو بھی یہ ہدایت کی کہ وہ احتجاج کرنیوالے ملازمین پر اس طرح دباؤ ڈالیں کہ وہ احتجاج سے باز آجائیں۔ قصور میں یہ کام ایس ای قصور عبدالطیف انجم کے ذمے لگایا گیا جس نے نجکاری کیخلاف تالا بندی اور ہڑتال کرنے کے بعد ملازمین کو رات گئے تک دفاتر میں بٹھانا اور ہڑتال کی قیادت کرنیوالے کارکنوں کیخلاف تبادلوں کے ساتھ ساتھ دیگر انتقامی کاروائیوں کا آغاز کردیا۔ اس پر واپڈا قصور سرکل کے ضلعی چیئر مین سردار فصیح الرحمن، وائس چیئر مین سردار تجمل ڈوگر، میاں عابد علی، عمر بانڈے، چوہدری اعظم علی، وارث علی، وارث بھلر کی قیادت میں ملازمین کی بڑی تعداد پرامن طریقے سے ایس ای قصور کے دفتر میں گئی اور انہیں کہا کہ وہ ملازمین سے اوور ٹائم لینا بند کردیں اور محنت کشوں کیخلاف غیر قانونی کاروائیاں بھی روک دی جائیں، ملازمین یہ کہہ کر واپس اپنے دفاتر میں آگئے۔ تاہم اگلے روز لیسکو کے چیف سے لاہور میں مشاورت کے بعد ایس ای قصور نے یونین کے پانچ عہداداروں سمیت پچپن ملازمین کیخلاف سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت ایک بے بنیاد مقدمہ درج کرا دیا جس پر ملازمین سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے پورے ضلع میں دفاتر کی تالا بندی کردی۔ چار ہزار سے زائد واپڈا ملازمین نے تالا بندی کے بعد قصور کوٹ رادھاکشن، چونیاں، پتوکی اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کرنے شروع کر دیے جس میں وہ انتقامی کاروائیاں ختم کرنے، نجکاری کیخلاف اور مقدمات کی واپسی کے مطالبات کرنے لگے۔ اس احتجاج کے دوران ایس ای او ر دوسرے افسران نے یونین کے موجودہ عہدیداروں سے ہارنے والے امیدواروں سے رابطے کیے اور انہیں کہاکہ اگر وہ افسران کا ساتھ دیں تو انہیں پروٹوکول دینے کے ساتھ ساتھ ان کے کام بھی کیے جائیں گے مگر سابق چیئر مین قصور سرکل نوید عاشق ڈوگر سمیت دیگر کارکنان نے افسران کا آلہ کار بننے کی بجائے ہڑتال پر گئے ہوئے کارکنوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا اور وہ بھی غیر مشروط طور پر ہڑتال میں آکر شامل ہوگئے اور اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ مقدمات کے خاتمے اور نجکاری کے عمل کیخلاف ہم غیر مشروط طور پر کارکنوں کے ساتھ ہیں، جس پر افسران حواس باختہ ہوگئے اور انہوں نے ایس ای قصور کو پولیس کی سپورٹ فراہم کر دی۔ ایس ای قصور جمعرات کے روز پولیس کی سیکورٹی میں اپنے دفتر آیا تو ملازمین نے پرامن رہتے ہوئے مطالبات کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔ اسی دوران چونیاں، کوٹ راھاکشن اور دوسرے شہروں میں پولیس نے غنڈہ گردی کی انتہا کرتے ہوئے واپڈا کے دفاتر کے تالے توڑ دیے اور ملازمین کو دھمکیاں دیتے ہوئے دباؤ ڈالنے لگے کہ وہ کام شروع کریں مگر پورے ضلع میں ایک بھی محنت کش نے کام کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کی جس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایس ای کی طرف سے مزید 14 ملازمین کیخلاف مقدمات درج کرائے گئے اور ان کے گھروں پر چھاپے مار کر سات سرکردہ کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ ہمیں پنجاب حکومت کے کہنے پر واپڈ ا افسران کی تابعداری کرنی پڑرہی ہے کیونکہ پنجاب حکومت ہر صورت ہڑتال ختم کراکے نجکاری کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔
جمعہ کے روز صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہائیڈرویونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری خورشید احمد اور دیگر عہدیدارقصور آئے تو انہیں دیکھتے ہی مزدوروں نے ان کے حق میں نعرے بازی کرنے کی بجائے خورشید احمد مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اپنے خلاف محنت کشوں کا غم وغصہ دیکھ کر خورشید احمد نے یونین کے مقامی عہدیداروں کو بلایا اور انہیں قائل کرنا چاہا کہ احتجاج کو ختم کر دیا جائے۔ مگر انہوں نے ہزاروں کارکنوں کے دباؤ کے پیش نظر احتجاج ختم کرنے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد خورشید احمد مقامی عہداداروں کو ساتھ لیکر ڈی سی او قصور کے دفتر میں گیا اور انہیں کہاکہ واپڈا کے محنت کش دہشت گرد نہیں ہیں اور ان کے گھروں پر چھاپے مارنا شرمناک عمل ہے۔ ڈی سی او قصور نے خورشید احمد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پیر کے روز فریقین سے ملاقات کرکے احتجاج کو ختم کرانے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر شیخوپورہ اور دیگر ریجنز کے چیئرمینوں نے کہاکہ وہ مکمل طور پر ضلع قصور کے احتجاجی کارکنوں کے ساتھ ہیں اور اگر مقدمات واپس لینے، ایس ای کا قصور سے تبادلہ کرنے اور قانونی احتجاج کی اجازت دینے کے مطالبے پورے نہ ہوئے تو ہم اس احتجاج کو دیگر اضلاع تک لیجائیں گے۔ اس موقع پر خورشید احمد نے بھی کارکنوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ تاہم ضلع قصور کے عہداداروں کے علاوہ دیگر اضلاع کے عہداداروں نے اس موقع پر واضح کر دیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے تک ہم کسی صورت احتجاج ختم نہیں کریں گے اور اگر پیر تک کارکنوں کے مطالبات نہ مانے گئے تو افسران کے دفاتر اور گھروں کی بجلی کاٹنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے حقوق کے لیے اس احتجاج کو پورے پنجاب میں پھیلا دیں گے۔