| رپورٹ: ظہیر |
آج کے اذیت ناک دور میں سرمایہ داری بنی نو ع انسان پر بہت سے ظلم ڈھا رہی ہے مگر بیروزگاری ایک ایسی اذیت ہے جس کے نفسیاتی زخم بہت گہرے ہیں۔ مورخہ 15 فروری کو سچل گوٹھ کراچی میں بیروزگار نوجوان تحریک (BNT) کے زیر اہتمام ایک روزہ رجسٹریشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد بیروزگار نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے بیروزگاری کے خلاف اجتماعی جدوجہد کا آغاز کرنا تھا۔ صبح 11 بجے کیمپ کا آغاز کیا گیا۔ صبح سے شام تک کیمپ پر انقلابی نغمے اور ترانے چلائے گئے۔ کیمپ جس علاقے میں منعقد کیا گیا تھا اس میں مختلف قوم پرست
پارٹیوں کا بڑا اثرورسوخ ہے اور ان پارٹیوں کے نوجوانوں نے بھی کیمپ میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ کیمپ پر ان نوجوانوں سے بہت سے متنازعہ موضوعات بھی زیر بحث آتے رہے مگر کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے نوجوان بھی کیمپ پر آئے جن کے ذہنوں میں کئی سوالات موجود تھے۔ وہ خاص طور پر موجودہ نظام کے متبادل پر سوالات کرتے رہے۔ کیمپ میں موجود نوجوانوں نے باری باری بیروزگاری کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی غرض سے تقاریر کیں۔ تقاریر اور بحث کے دوران اہل علاقہ سے سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی بحران اور موجودہ سماجی
شعور پر اس کے اثرات پر بات چیت ہوئی۔ سویت یونین کے انہدام اور اس کی وجوہات کو کمیونزم کی ناکامی سمجھنے والے حاضرین سے اس موضوع پر طویل بات چیت ہوئی۔ کیمپ میں سارا دن رونق رہی اور ایسے نوجوانوں کی تعداد قابل ذکر ہے جنہوں نے BNT کے موقف کی تائید کی۔ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچ کے باوجود کیمپ میں تمام دن نوجوان آتے رہے۔ کیمپ کا اختتام شام 7 بجے کیا گیا جبکہ رجسٹریشن کروانے والے نوجوانوں پر مشتمل سٹڈی سرکل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔