کراچی: بہاولپور انجینئرنگ میں محنت کشوں کے خلاف انتقامی کاروائی

[رپورٹ: ماجد میمن]
یکم جنوری 2015ء کوبہاولپور انجینئرنگ لمیٹڈ کراچی کے محنت کشوں نے اپنی تنخواہ میں اضافہ، ایک گھنٹے کے لنچ ٹائم اور سالانہ 40 چھٹیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے فیکٹری گیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات سے منسلک نعرے لگائے۔ مل کی انتظامیہ خوف زدہ ہو گئی اورانتظامیہ کے اہلکاروں نے محنت کشوں کے نمائندگان کو مذاکرات کے لیے بلایا ۔ اس موقع پر انتظامیہ نے ان کو دھرنا ختم کرنے کے لیے کہا اور ان کے مطالبات کو فیکٹری مالک تک پہچانے کا وعدہ کیاگیا مگر محنت کشوں کے نمائندگان نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کی دھمکی دی جس پر فیکٹری انتظامیہ نے تحریری طورپر ایک ہفتے کے اندر مطالبات پورے کرنے کا وعدہ کیا۔ حسب توقع مقررہ تاریخ پر ٹال مٹول کرنے کی کوشش کی گئی جسے مورخہ 8 جنوری 2015ء کو رد کرتے ہوئے فیکٹری کے محنت کشوں نے ایک بار پھرفیکٹری کی پروڈکشن روک کر انتظامیہ کو اپنی طاقت کا ثبوت دیا۔ فیکٹری انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اورمحنت کشوں کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیااور40 چھٹیاں سال بھر میں دینے کا اعلان کیا گیا۔ تحریک ٹھنڈی ہونے پرانتظامیہ نے محنت کشوں پر جوابی حملہ کرتے ہوئے 3 مزدوروں کو بغیر نوٹس فیکٹری سے نکال دیا ۔اس واقعہ کے بعد سے برطرف ملازمین نے PTUDC اور دوسرے محنت کشوں کے ساتھ مل کر بحالی کی جدوجہد شروع کردی ہے۔PTUDC فیکٹری انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ انتقامی کاروائی کو روکتے ہوئے برطرف ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے، بصورت دیگر دوسرے اداروں کے محنت کشوں کو ساتھ ملاتے ہوئے مالکان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔