تحریر: ماجد یعقوب اعوان، صدر پی ٹی ڈی سی ایمپلائیز یونین (CBA)
پوری دنیا میں آج سیاحت بھی دیگر معاشی شعبوں کی طرح ایک صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ جن ممالک نے اس انڈسٹری میں بہت تیزی سے ترقی کی آج ان ممالک کا شمار دنیاکے بہترین ٹورسٹ ممالک میں ہوتا ہے جو اس صنعت کے ذریعے کثیر زر مبادلہ کمارہے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں دنیا کے خوبصورت سیاحتی مقامات ہونے کے باوجوداس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ بلکہ اگر کسی حکومت نے کچھ اقدامات کئے بھی تو بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس پر پانی پھیردیا۔ پاکستان میں سیاحت کی ترقی اور ترویج کے لئے1972ء میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن(PTDC) کی بنیاد رکھی جسکا مقصد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو ملک کے دور دراز علاقوں میں سہولیات فراہم کرنا تھا۔ پیپلز پارٹی کا منشور ملک میں ہزاروں لاکھوں غریب لوگوں کو روزگار فراہم کرنا تھا۔ اس پارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا لیکن بعد میں آنے والی اسی پارٹی کے دور حکومت (2008-13ء) میں PTDC کے ملازمین کا جینا حرام کر دیا گیا۔ اس کے بعد نواز حکومت سے کسی اچھائی کی توقع کرنا تو ویسے ہی بیوقوفی کے مترادف ہے۔
نجکاری کا وار
اس وقت پورے پاکستان میں پی ٹی ڈی سی کے50 کے قریب موٹلز مختلف صحت افزا مقامات پر سہولیا ت فراہم کر رہے ہیں جن میں کا غان ویلی، چترال ویلی، سوات ویلی، ناردرن ایریا، پھنڈر ویلی، سکردو جیسے دور دراز علاقے شامل ہیں۔ پی ٹی ڈی سی اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے اور لاہور سے دہلی، ننکانہ سے امرتسر، سُست بارڈر سے چین اپنی انٹر نیشنل بس سروس چلا رہی ہے۔ لو کل سطح پرراولپنڈی سے ناران اپنے کسٹمر ز کو سفری سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے۔ تیسر ا شعبہ ہوٹلنگ کاہے۔ پی ٹی ڈی سی کے ہوٹل ڈینز پشاور، سیسل ہوٹل مری اور فلیٹیز ہو ٹل لاہو رکو سابقہ نواز حکومت کے دور میں نجکاری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ ایک ہوٹل فلیشمینز ابھی تک حکومت کی پہنچ سے دور ہے ورنہ یہ بھی کب کا نجکاری کی بھینٹ چڑھ چکا ہوتا۔ نجکار ی کا یہ عمل پی ٹی ڈی سی کے محنت کشوں پر ایک کاری وار ثابت ہوا۔ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کا لولی پاپ دے کر ان کا مستقبل تباہ کیا گیا۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ ہوا بلکہ سرمایہ دار اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ اپنے من پسند لوگو ں کو نوازنے کے لئے نجکا ری کا یہ جھانسا دیا گیا تھاجس کی وجہ سے پی ٹی ڈی سی کے منافع بخش ادارے کوسازش کے تحت نقصان والے ادارے میں تبدیل کر دیا گیا۔ پی ٹی ڈی سی کا ایک ذیلی ادارہ ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر بھی ہے جو کہ پاکستان کے تمام انٹر نیشنل اور نیشنل ائیر پورٹس پر ملکی و غیر ملکی سیاحو ں کو معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے چند بڑے اور اہم شہروں میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
پی ٹی ڈی سی زوال کے اسباب
پچھلے چند سالوں سے PTDC میں سیاسی اثرو رسوخ کے حامل افراد کی بطور منیجنگ ڈائریکٹر تقرری سے اس بین الاقوامی سطح کے ادارے کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ ان افسران کا نان پروفیشنل رویہ اس ادارے کو تباہ کرنے کے لئے کافی تھاجسکی زندہ مثال پاکستان پیپلز پارٹی کی ایگزیکٹو باڈی کے ممبرا میر باز خان کھیتران کا چھوٹا بھائی میر شاہجہان کھیتران ہے۔ حکومت نے آئی پی او (INTLACTUAL PROPERTY ORGANIZATION) سے برطرف کئے گئے چیئرمین کو PTDC کا منیجنگ ڈائریکٹرتعینات کر دیاجس نے اپریل 2011ئمیں بطور منیجنگ ڈائریکٹراپنے عہدے کا چارج لیا۔ اس دن سے PTDC کی تباہی اور بربادی میں رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ جو ادارہ ملکی خزانے میں کروڑوں روپے ٹیکس جمع کرانے کا سبب بنتا رہا آج اسی ادارے کے ملازمین گزشتہ 15ماہ کی تنخواہوں سے محروم چلے آرہے ہیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے ریلیز ہونے والی گرانٹ کو اپنی عیاشیوں پر خرچ کیا جاتا رہا۔ محنت کشوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
2005ء کے تباہ کن زلزلہ نے وادی کاغان کو بری طرح متاثر کیا۔ 2007ء میں ملک میں ہونے والی ملک گیر دہشت گردی نے PTDC کے تمام نظام کو درہم برہم کردیا۔ سوات میں واقع موٹل مالم جبہ کو بمباری میں تبا و برباد کر دیا گیا۔ کا لام موٹل کو فوج نے اپنے کنٹرول میں لیکر اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔ باقی موٹلز کو ’’لا اینڈ آرڈر‘‘ کی صورت حال کے پیش نظر بند کرنا پڑاجس سے PTDC کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔ تب سے اب تک اس میں بہتری کی کوئی تدبیر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ نامساعد حالات کے باوجود انہی جگہوں پر پرائیویٹ ہوٹل مالکان آج بھی سالانہ کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔
سابق ایم ڈی پی ٹی ڈی سی میر شاہجہان کیھتران نے 705 افراد کو رشوت لیکر غیر قانونی طور پر بھرتی کیا۔ پہلے سے تباہ شدہ ادارے میں، جس کے پاس اپنے ریگولر ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں، وہاں بغیر کسی پلاننگ کے نئے افراد کی بھرتی نہ صرف ادارے کی مزید تباہی کے مترادف ہے بلکہ نئے بھرتی کئے جانے والے محنت کشوں کے مستقبل سے بھی کھلواڑ ہے۔ سید خورشید شاہ جو اس وقت پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر ہیں انھوں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس طرح یہ منافع بخش ادارہ آہستہ آہستہ تباہی کی طرف بڑھنے لگا۔ اس ادارے کی مینجمنٹ نے سابق ایم ڈی کے ساتھ مل کر فنڈز کو اپنی عیاشیوں پر خرچ کرنا شروع کر دیا۔ کروڑوں روپے کے ریزرو فنڈزجو کہ اس ادارے کی بہتری اور ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہونے تھے، مینجمنٹ نے اپنی عیاشیوں پر خرچ کر ڈالے۔ نواز حکومت کی طرف سے سپیشل آڈٹ کروایا گیا جس میں یونین کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات سچ ثابت ہوئے لیکن آج تک ذمہ داران کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ پی ٹی ڈی سی کی تمام مینجمنٹ اپنے خلاف ہر الزام کو جھوٹا ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جو لوگ اس رپورٹ میں قصور وار ثابت ہوئے وہ آج بھی انہی سیٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی ڈی سی کی ملکیتی اراضی کو اپنے من پسند لوگوں کو لیز پر دے کر ادارے کو کروڑوں کا ٹیکا لگانے والے مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔
نیب (NAB) نے عبدالرسول زاہدی کو حراست میں لیا ہوا ہے جبکہ باقی مینجمنٹ جو کہ اس تباہی کی ذمہ دار ہے اور میر شاہجہان کھیتران آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں۔ میر شاہجہان کھیتران کے پاس پی ٹی ڈی سی میں آنے سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا لیکن آج وہ ویگو اورپراڈوجیسی قیمتی گاڑیوں اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں اربوں روپے کی پراپرٹی کا مالک ہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پھر وہی کرپٹ ٹولہ اقتدار میں ہے اور ملازمین کا استحصال کر رہا ہے۔ ملاز مین در در ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ کھیتران چلا گیا لیکن مالی بے ضابطگیاں آج بھی اسی طرح جاری ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کی لٹکتی تلوار اور غیر قانونی بھرتیاں
اٹھارویں ترمیم کے تحت اس ادارے کو صوبوں کے حوالے کرنا تھا۔ دسمبر 2010ء سے لیکر اب تک نہ تو PTDC کو صوبائی بنیادوں پر تحلیل کیا جا سکا اور نہ ہی اس کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسئلہ کے حل کے لئے کوئی اقدامات کئے جا سکے۔ PTDC ہیڈ آفس کے ملازمین کی گرانٹ کو بھی فریز کر دیاگیا۔ ایم ڈی پی ٹی ڈی سی نے مینجمنٹ کے ساتھ مل کرتمام رولز اینڈ ریگولیشنز کی دھجیاں اڑادیں۔ رشوت لیکر بھرتیاں کرنے میں اس وقت کے منیجر اکاؤنٹس عبدالرسول زاہدی اور ایکٹنگ ڈائریکٹرفنانس/جنرل منیجر فنانس/جنرل منیجر (P&A)/جنرل منیجر آڈٹ بھی شامل تھے۔ ان سب الزامات کوسپیشل آڈٹ نے سچ ثابت کر دکھایا۔ یونین کی طرف سے PTDC میں کرپشن کے حوالے سے لگائے گئے 31 میں سے 24 الزامات سچ ثابت ہوئے لیکن اس کے باوجود کرپٹ افسر شاہی کو فارغ نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ اس میں چند ایسی شخصیات شامل ہیں جو اپنے آپ کو’’Law‘‘ سمجھتی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعدتمام صوبہ جات PTDC کی اربوں، کھربوں روپے کی اراضی تو لینے کے لئے تیار ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ملازمین کو لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
پی ٹی ڈی سی ایمپلائیز یونین کی کرپٹ ٹولے کے خلاف جدو جہداور منشور
ہم عرصہ چار سال سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔ ہماری فریاد کوئی سننے کو تیار نہیں۔ ہم نے اپنے بنیادی حق تنخواہ کے لئے آواز بلند کی اور ابھی تک انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی محتسب، نیب، ایف آئی اے، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ، نیشنل انڈسٹری ریلشن کمیشن، ہیومن رائیٹ سیل سپریم کورٹ آف پاکستان، وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان، منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی ڈی سی سب کو ادارے میں ہونے والی کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے بارے آگاہ کیا لیکن انصاف ندارد۔ چند صحافی بھائی اور خصوصی طور پر ڈاکٹرچنگیز ملک اور PTUDC کے دیگر ساتھی ابھی تک ہمارے ساتھ اس لڑائی میں چل رہے ہیں۔
PTDC کے ملازمین کی تنخواہو ں کے لئے حکومت سے ایک ارب 50 کروڑ گرانٹ کا مطالبہ کیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک اس گرانٹ کا کوئی حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ہمارے PTDC کے ہنر مند، با صلاحیت ورکرز سیاحت کے فروغ کے لئے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو ضروری ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت وقت مندرجہ بالا رقم فوری طور پر ادارے کو فراہم کرے اور اس کے ساتھ کرپٹ افسرشاہی کو نوکریوں سے برطرف کرتے ہوئے ادارے کو PTDC کے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دے جس سے PTDC کو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے، بلکہ ایک منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ملازمین کی 15 تا 18 ماہ کی عدم ادا شدہ تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں تاکہ محنت کش گھرانوں کا چولہا جل سکے۔
