[تحریر: لال خان]
آج کل پاکستان میں ’’نظام‘‘ تبدیل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ مالیاتی سرمائے کے مختلف سیاسی دھڑوں میں سے کوئی ’’انقلاب‘‘ لارہا ہے، کسی کو ’’تبدیلی‘‘ چاہئے تو کوئی عوام کو ’’آزادی‘‘ دلانے کے درپے ہے۔لیکن ’’نظام‘‘ کو تبدیل یا ’ٹھیک‘ کرنے کے یہ تمام دعوے دار اس نظام کا نام لینے سے گریزاں ہیں۔تین ہفتے بیت چکے ہیں،فرسودہ سیاست کا بے معنی اور بیہودہ انتشار جاری ہے، سیاستدانوں اور میڈیا چینلز کے ایک دوسرے پر الزامات اور بڑھک بازی نے عوام کو پہلے سے بھی زیادہ بیزار کر دیا ہے۔برطانیہ کے قدامت پرست مگر عیار وزیر اعظم ہیرلڈ مکمیلن نے ایک بار کہا تھا کہ ’’سیاست میں ایک ہفتے کا عرصہ کا بھی بہت طویل ہوتا ہے۔‘‘ لیکن اس ملک میں ایک ہفتہ طویل ترہو گیا ہے۔
یہ تمام تر شعبدہ بازی آخر کس لئے ہے؟ اس لعنت ملامت سے کیا مقصود ہے؟ یہ بحث و تکرار سیاست کے اس لڑکھڑاتے ہوئے بالائی ڈھانچے سے متعلق ہے جو کھوکھلی اور بوسیدہ معیشت کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اس معاشی نظام کا تو ذکر تک نہیں کیا جارہاجو سماج کی وسیع اکثریت کو غربت اور محرومی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلتا چلا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں بیٹھے ’’انقلابی‘‘ تو سرمایہ داری کا لفظ زبان تک لانے کو تیار نہیں ہیں۔جب بیماری کی تشخیص کرنے کی کوئی نیت ہی نہ ہوتو علاج بھلا کیسے ممکن ہے؟
شریف حکومت آج ’’جمہوریت‘‘ کی علامت بنی بیٹھی ہیں۔ جمہوریت کے یہ ٹھیکیدار اس ملک کی بدترین فوجی آمریت کی پیداوار ہیں۔فوج کی جانب سے حکومت کے خاتمے کی افواہیں غلط ثابت ہوتے ہی دوسری مذہبی اور ’’سیکولر‘‘ پارٹیاں بھی وفاداریاں بدل کے مقدس جمہوریت کی کشتی پر سوار ہو گئی ہیں۔سیاست کے اس جمہوری کاروبار میں زیادہ سے زیادہ حصہ داری کے لئے ’’پارلیمنٹ کا تقدس‘‘ اور ’’آئین کی حفاظت‘‘ لازم ہے۔ایم کیو ایم زیادہ حصہ داری کے لئے عین موقع پر رنگ میں بھنگ ڈالنے کی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔عسکری قیادت کی ہچکچاہٹ اور ابہام، ملٹری ہائی کمانڈ میں داخلی تضادات اور دراڑوں کو عیاں کر رہا ہیے۔
عمران خان اور طاہر القادری کے مقاصد سیاسی اشرافیہ کے متحارب دھڑے سے مختلف نہیں ہیں۔ عمران خان کے مطالبات چار حلقوں میں دوبار گنتی سے شروع ہوئے تھے۔ سماجی بنیادوں سے عاری حکومت پسپا ہوتی رہی اور عمران خان کے مطالبات بڑھتے چلے گئے، بات وزیر اعظم کے استعفے تک جا پہنچی۔ تحریک انصاف بالائی درمیانے طبقے کی جماعت ہے۔ کرائے کا مجمع اکٹھا کرنے کے لئے پیسے کی کمی بھی نہیں ہے۔ قادری پورے نظام کی تعمیر نو کا دعوے دار ہے۔ایک ہزار کتابوں کے مصنف کی عقل کل شاید رائج الوقت طبقاتی نظام کی معاشی بنیاد کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔ موصوف ’’نظام‘‘ تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور سرمایہ داری کو سرمایہ داری سے ہی تبدیل کرتے پھر رہے ہیں۔ غریب عوام کے مسائل پر قادری کی شعلہ بیانی سے خود عوام بھی اکتا گئے ہیں۔قادری صاحب کے لانگ مارچوں میں زیادہ تر ’افرادی قوت‘ ان کے مدرسہ نیٹ ورک سے فراہم ہوتی ہے۔ خاندان کے افراد ساتھ لانے والوں کو ’بونس‘ بھی ملتا ہے۔
عمران خان کی جانب سے مڈٹرم الیکشن اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے مطالبات اگر پورے ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑے گا؟ الیکشن کے نتائج کیا سرمائے کی دھونس ، اسٹیبلشمنٹ کے مفادات اور سامراجی آقاؤں کی اسٹریٹجک ترجیجات سے پاک ہو جائیں گے؟ریاستی مشینری کو جیب میں رکھنے والے سرمایہ دار اور جاگیر، قبضہ گروپ، بھتہ خور، ڈرگ لارڈز اور دہشت گرد گروہ تحریک انصاف سمیت اس ملک کی ہر بڑی سیاسی جماعت پر قابض ہیں۔جہاں معیشت کا دو تہائی حصہ کالے دھن پر مشتمل ہو وہاں انتخابات ’’شفاف‘‘ نہیں ہوا کرتے۔ کچھ ریاستی دھڑوں کے وعدوں پر اعتبار کر کے عمران خان اپنے مطالبات کو جس انتہا تک لے گئے ہیں وہاں سے واپسی بڑی تکلیف دہ ہوگی۔ نواز شریف کے استعفے کے بغیر خان صاحب کی پسپائی تحریک انصاف پر کاری ضرب لگائے گی اور یہ سیاسی بلبلہ توقعات سے بہت پہلے ہی پھٹ جائے گا۔ پی ٹی آئی میں شکست و ریخ کا جو عمل شروع ہوا ہے وہ رکنے والا نہیں۔ قادری صاحب بھی بہت سے مریدوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
ان دھرنوں کی ہوا نکل جانے سے نواز شریف حکومت کے مسائل کم نہیں ہوں گے۔ معیشت کا زوال، ملک کے طول و ارض میں جاری خانہ جنگی، پراکسی جنگیں اور سماجی بے چینی، ریاست کے داخلی تضادات، افغانستان سے نیٹو کا متوقع انخلا اورہندوستان سے تعلقات جیسے معاملات پھن پھیلائے حکومت کے سامنے کھڑے ہیں۔یہ مسائل مڈٹرم انتخابات، ’’ٹیکنوکریٹ‘‘ حکومت یا مارشل لاسے بھی حل ہونے والے نہیں ہیں ۔میاں صاحب کا روایتی تکبر اور زد، صورتحال کی پیچیدگی میں اضافہ ہی کرے گی۔آئی ایم ایف پہلے ہی قرض کی شرائط پوری نہ ہونے پر نالاں ہے ۔دائیں بازو کی اس حکومت کا معاشی جبر ناگزیر طور پر عوام کو اشتعال دلائے گا۔ عوام پہلے ہی اس جعلی سیاست سے تنگ آچکے ہیں جس میں ان کے حقیقی مسائل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور جس کا اول و آخر مقصد بدعنونی اور استحصال کو تحفظ دینا ہے۔ ریاست میں پڑنے والی دراڑیں ’’جمہوریت‘‘ کے گوند سے پُر نہیں ہوں گی۔امکانات کم ہیں کہ مسلم لیگ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ نئے بحران اور طوفانی واقعات افق پر منڈلا رہے ہیں۔
مئی 2013ء میں پیپلز پارٹی کے ہارنے والے امیدوار (خصوصاً پنجاب میں) مڈٹرم انتخابات کے شدید متمنی ہیں۔ان حضرات کی پوری خواہش تھی لانگ مارچ اور دھرنے موجودہ حکومت کا بوریا بستر گول کردیں۔ تاہم حکمران طبقے اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے سنجیدہ دھڑے حالات کی نزاکت سے خوب واقف ہیں۔اس انداز میں حکومت کے خاتمے سے حالات کے بے قابو ہوجانے کا اندیشہ موجود ہے اور ریاست کا حاوی دھڑا چاہتا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو فی الحال چلایا جائے۔ سٹیٹس کو کے سامنے سجدہ ریز پیپلز پارٹی قیادت نے انتہائی ڈھٹائی سے جمہوریت کو جواز بنا کر نواز حکومت کی حمایت کی ہے۔ اس شرمناک موقع پرستی کا بنیادی مقصد سندھ کی صوبائی حکومت بچانا ہے جہاں مال بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی قیادت، نظریات اور بھٹو کے بنیادی سوشلسٹ منشور کو بہت پہلے کوڑے دان میں پھینک چکی ہے۔ جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انتہائی ڈھٹائی سے نواز حکومت کی حمایت کرنے والے یہ حضرات اب وہ بنیادی تضاد بھی ختم کر رہے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کا سیاسی وجود قائم ہے۔ان حالات میں عوام کی روایتی جماعت کے طور پر پیپلز پارٹی کے مکمل انہدام کا تناظر خارج از امکان نہیں ہے۔
لمبے عرصے سے اس ملک کے محنت کش عوام نے سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھا ہے۔آخری بار 18 اکتوبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے وقت عوام کی بڑی تعداد کراچی کی سڑکوں پر آئی تھی۔ 2007ء کی انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی کے جلسے وسیع ہو کر ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتے جارہے تھے۔ بے نظیر کے قتل اور بعد ازاں پارٹی قیادت کے نظریاتی انحراف اور غداری کے ذریعے تحریک کا گلا با آسانی گھونٹ دیا گیا۔ تاہم پرانتشار سیاسی جموداور محنت کش طبقے کی سیاست سے لاتعلقی کی حالیہ کیفیت زیادہ دیرقائم نہیں رہے گی۔ جمہوریت کے دھوکے اور روایتی قیادت کی غداری سے عوام لاشعوری طور پر نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ یہ لاشعوری آگاہی جب اجتماعی شعور میں سرایت کرے گی تو اس سماج کی اخلاقیات، اقدار اور نفسیات کو پاش پاش کرڈالے گی۔انقلاب کوئی مراعت یا ایڈونچر نہیں بلکہ محنت کش عوام کی سلگتی ہوئی ضرورت بن چکا ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ ’’ضرورت اس وقت تک اندھی ہوتی ہے جب تک شعورمیں اجاگر نہ ہوجائے۔ ضرورت کا شعور انسان کو آزاد کر دیتا ہے۔‘‘
عوام نے آمریتوں کا جبر بھی سہا ہے اور سرمائے کی جمہوریت کے پارلیمانی سرکس بھی دیکھے ہیں لیکن ان کی محرومی بڑھتی ہی گئی ہے۔استحصالی معیشت کو چلانے کے مختلف سیاسی طریقے ایجاد کر کے یاس اور ’’تبدیلی‘‘ کی دھول ان محروم آنکھوں میں جھونکی جاتی رہی ہے۔ سامراجی آقا، ریاستی اشرافیہ اور مقامی سرمایہ دارکروڑوں زندہ لاشوں کا خون نچوڑ کر دولت کے انبار لگاتے رہے ہیں۔ان زندہ لاشوں کو مہنگائی، بیروزگاری، لاعلاجی، ناخواندگی، ناانصافی اور بھوک سے آزاد کر کے زندگانی دینے کا معاشی پروگرام اور لائحہ عمل کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں ہے۔صرف ایک بالشویک پارٹی محنت کش طبقے اور نوجوانوں کو سرمایہ داری کی نہ ختم ہونے والی ذلت سے نجات کا نظریہ، منشور اور سیاسی حکمت عملی فراہم کر سکتی ہے ۔ لیکن انقلابی پارٹیاں صرف انقلابی ادوار میں ہی عوامی بنیادیں حاصل کرتی ہیں۔ سماجی اور سیاسی جمود کے ادوار میں انقلابیوں کا فریضہ، لینن کے الفاظ میں ’’صبر آزما وضاحت‘‘ اور بنیادی تنظیمی ڈھانچوں کی تعمیر ہوتاہے۔اگر یہ فریضہ ادا کر دیا جائے تو مستقبل میں اٹھنے والی انقلابی تحریک کی فتح یقینی بن جاتی ہے۔ یہی تاریخ کا سبق ہے!
متعلقہ:
دولت والوں کی تکرار، عوام بیزار
دھرنے، پیپلزپارٹی اور مفاہمت کی سیاست
جمود کا خلفشار
بالشویک انقلاب: جب سپنے سچ ہوئے!
مقدر کے سکندر