[رپورٹ: عطاء اللہ]
مورخہ 29 جون بروز اتوارارتقا سنٹر یونیورسٹی روڈ کراچی میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں نے شر کت کی۔ مارکسی سکول مجمو عی طور پر دو سیشنز پر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن میں ٹراٹسکی کی تحریر کی گئی کتاب ’’ادب اور انقلاب‘‘ پر کامریڈ صمد نے لیڈ آف دی اور دوسرے سیشن میں پاکستان تناظر پر کامریڈ مصرقیصرانی نے لیڈ آف دی۔ پہلے سیشن کو کامریڈ ماجد میمن نے چیئرکیا۔
ادب اور انقلاب پر لیڈ آف دیتے ہوئے کامریڈ صمد نے بتایا کے کس طرح سائنسی ترقی انسان کے شعور پر اثر انداز ہوئی اور اس کے اثرات ادب پر بھی پڑے۔ ایک طبقاتی نظام میں ادب غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمیشہ کسی مخصوص طبقے کی وکالت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب تک کا ادب اس معیار تک نہیں پہنچا کہ اسے خالص انسانی ادب کہا جا سکے کیوں کہ یہ طبقات سے آزاد نہیں ہو سکا۔ معمول کے حالات میں ادیب اور قارئین دونوں ادب کو غیر جانبدار سمجھتے ہیں مگر جنگوں اور انقلابات جیسے بڑے واقعات ادب کے طبقاتی کردار کا پردہ فاش کر دیتے ہیں۔ خالص ادب سوشلسٹ سماج سے قبل پروان نہیں چڑھ سکتا۔ کامریڈ صمد نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب تک طبقاتی نظام موجود ہے تب تک کا بہترین ادب وہ ہے جس میں طبقاتی نظام کی نفی کی گئی ہو۔ ادب کی اپنی ترقی میں بھی باربار حکمران طبقہ حائل ہوتا رہا ہے۔ نشاۃ ثانیہ سے قبل ایسے ادب کو کفریہ قرار دیا جاتا تھا جو مذہب سے متعلق نہ ہو۔ نام نہاد امن کے رجعتی ادوار میں محنت کش عوام کی اکثریت ایسی غلامی میں ہوتی ہے جس کے خلاف سوچنے کی بجائے وہ اس کے حق میں سوچتے ہیں۔ زر خرید ادیب حضرات کے لیے گویا محنت کشوں کا کوئی وجودہی نہیں ہوتا۔ مگر انقلابات میں جب محنت کش طبقہ اپنی طاقت کا احساس پا کر کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ ادیب جن کے لیے کبھی کوئی محنت کش طبقہ وجود ہی نہیں رکھتا تھا بوکھلاہٹ میں اپنے پالن ہار حکمران طبقے سے وفاداری میں محنت کشوں کے خلاف ہو جاتا ہے یا وہ ماضی میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ماضی میں کسانوں کے رومانوی ادب کے علاوہ انہیں کچھ نہیں ملتا۔ مگر کسان بھی اسی سماج کا حصہ ہیں جس میں پرولتاریہ رہتا ہے اور کسانوں پر بھی سماجی ڈھانچے کی تبدیلی اثر انداز ہو رہی ہوتی ہے اور یہ تبدیلی ایک نئے انقلابی ادب کی تعمیر کرتی ہے۔ کامریڈ مصر قیصرانی، کامریڈ فرہاد، علی مرتضیٰ اورپال جان نے اس موضوع کو مزید آگے بڑھایا۔ پارس جان نے معروض اور موضوع، جزو اور کل، شکل اور مواد، رومانیت، Symbolism، حقیقت پسندی، Skepticism، مستقبل پرستی، انقلابی اور سوشلسٹ ادب میں فرق، ادب اور ادیبوں کی طرف کمیونسٹوں کے رویوں جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے سوالوں کے جواب دیئے اور پہلے سیشن کوسم اپ کیا۔
کھانے کے وقفے کے بعد دوسرے سیشن کا آغاز ہوا جس کو کامریڈ میر مرتضیٰ نے چیئر کیا۔ پاکستان تناظر پیش کرتے ہوئے مصر قیصرانی نے کہا کہ پاکستان میں اوسطاً 1185 بچے روزانہ بھوک اور قابل علاج بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ بجٹ نے حکمرانوں کی بے حسی کو محنت کش طبقے پر واضح کر دیا ہے۔ اب سے قبل سیاسی نا بلدی کے باعث عوام حکمرانوں میں سے اچھے اور برے کی تقسیم کرتے تھے مگر اب مجموعی طور پرمحنت کشوں کا سیاسی شعور اتنا بلند ہے کہ وہ تمام سیاسی پارٹیوں سے یکساں متنفر ہیں۔ قادری کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے بیک وقت عالمی سرمایہ دار اور پاکستانی ایجنسیوں کے کچھ دھڑے ہیں جن کے مقاصد اور پالیسیاں آپس میں متصادم ہیں۔ ٹھیک ٹھاک سرمایہ کاری کے باوجود قادری ایک انتہائی نا اہل انسان ہے اور اپنے آقاؤں کی امیدوں پر پورا اترنے سے قاصر ہے۔ اس کے علاوہ سیاست دانوں، ریاستی اداروں اور دھڑوں کے آپس کے اختلاف اور معاشی بحران پر تفصیل سے بات کی گئی جس میں کامریڈ پال جان، بابر پنہور، ماجد میمن نے اضافہ کیا جبکہ پال جان نے انقلابی نظم بھی سنائی۔ پاکستان تناظر کا سم اپ کرتے ہوئے کامریڈ پارس جان نے وزیرستان آپریشن کے کھوکھلے پن، پاکستان میں چلنے والی مختلف پراکسی جنگوں، قانونی اور کالی معیشت کے باہمی تعلقات وغیرہ کا جائزہ لیتے ہوئے تمام سوالات کے جوابات دیئے۔ سکول کا اختتام انٹر نیشنل گا کر کیا گیا۔