ساتھی ہاتھ بڑھانا

ساتھی ہاتھ بڑھانا، ساتھی ہاتھ بڑھانا
ایک اکیلا تھک جائے گا مل کر بوجھ اٹھانا
ساتھی ساتھ نبھانا۔۔۔
ہم محنت والوں نے جب بھی مل کر قدم بڑھایا
ساگر نے رستہ چھوڑا پربت نے شیش جھکایا
فولادی ہیں سینے اپنے، فولادی ہیں بانہیں
ہم چاہیں تو پیدا کر دیں چٹانوں میں راہیں
محنت اپنے لیکھ کی ریکھا محنت سے کیا ڈرنا
کل غیروں کی خاطر کی اب اپنی خاطر کرنا
اپنا سکھ بھی ایک ہے ساتھی اپنا دکھ بھی ایک
اپنی منزل سچ کی منزل اپنا رستہ نیک
ایک سے ایک ملے تو قطرہ بن جاتا ہے دریا
ایک سے ایک ملے تو ذرہ بن جاتا ہے صحرا
ایک سے ایک ملے تو رائی بن سکتی ہے پربت
ایک سے ایک ملے تو انساں بس میں کرلے قسمت
مٹی سے ہم لعل نکالیں موتی لائیں جل سے
جو کچھ اس دنیا میں بنا ہے ہمارے بل سے
کب تک محنت کے پیروں میں یہ دولت کی زنجیریں
ہاتھ بڑھاکر چھین لو اپنے سپنوں کی تصویریں
ساتھی ہاتھ بڑھاناساتھی ہاتھ بڑھانا
ایک اکیلا تھک جائے گا مل کر بوجھ اٹھانا
ساتھی ساتھ نبھانا۔۔۔
ساحر لدھیانوی