ملتان: ریلائنس ویونگ ملز کی مزدور دشمن انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ

[رپورٹ: کامریڈ ندیم پاشا]
5 مئی کو لیبریونین ریلائنس ویونگ ملز خانیوال روڈ ملتان کے زیر اہتمام چوک نواں شہر ٹرسٹ پلازہ ملتان کے سامنے انتظامیہ کے مزدور دشمن رویے کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلائنس ویونگ ملز انتطامیہ کے ریٹائرڈ کرنل ظفر اور اکرام عظیم اپنے پالتو غنڈوں کے ذریعے لیبر یونین کے عہدیداران کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ لیبر یونین کے عہدیداروں کے خلاف جو انتقا می کاروائیاں کی جارہی ہیں انہیں فوراََ بند کیا جائے۔ اس موقع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے رہنماؤں نے اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ میں شرکت کی اور لیبر یونین کے عہدیداروں کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ناجائز مقدمات فوراََ ختم کئے جائیں اور بر طرف کئے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے۔ مظاہرے کے شرکا سے خاور علی شاہد، ابرار شاہ، خورشید، محمد ناصر، ریاض حسین اور PTUDC سے ندیم پاشا، اسلم انصاری اور طلبہ رہنما ء نادر گوپانگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلائنس ویونگ ملز بڑے صنعت کاروں کا ایک صنعتی یونٹ ہے جہاں دو ہزار محنت کش کام کرتے ہیں جن میں چار سو خواتین بھی شامل ہیں۔ ان خواتین سے چھ ہزار سے بھی کم اجرت پر کام لیا جارہا ہے جبکہ حکومت کے اعلان کردہ کم از کم تنخواہ دس ہزار روپے ماہوار ہے۔ آٹھ سو سے زائد مزدوروں کے سوشل سیکورٹی کارڈز نہیں بنائے گئے ہیں، اوور ٹائم پر لیبر قوانین کے تحت ڈبل معاوضہ دیا جاتاہے مگر ریلائنس ویونگ ملز میں اس قانون پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جاتا، ایگریمنٹ کے تحت ورکرز کو 5 فیصدمنافع دیا جانا چاہئے مگر انتظامیہ نے آج تک یہ رقم ادا نہیں کی ہے۔ مل میں کسی بڑے حادثے کی صورت میں کسی قسم کی ابتدائی طبی امداد کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معمولی سی غلطی پر مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنانا انتظامیہ کا وطیرہ بن چکا ہوا ہے۔ تشدد کی کاروائیوں میں ایڈمن منیجر کرنل (ر) ظفر، مینٹینس انچارج اورجنرل منیجر سر فہرست ہیں جو اپنے غنڈوں کے ہمراہ آئے روز لیبر یونین کے عہدیداران کو ٹریڈ یونین سرگرمیاں جاری رکھنے پر قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ ان تمام مسائل کی جانب جب یونین نے مل مالکان کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تو ان عہدیداران کے خلاف انتقامی کاروائیاں شروع کردی گئیں ہیں۔ مورخہ 30 اپریل 2014ء سے لیبر یونین کے صدر خاور علی شاہد، نائب صدر ریاض حسین، جنرل سیکرٹری محمد خورشید، پروپیگنڈہ سیکرٹری ناصر کا گیٹ پاس بند کردیا گیا ہے اور انہیں اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے مل میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا۔ اس سے قبل مل انتظامیہ نے پاکٹ یونینز کے درمیان جعلی ریفرنڈم کروا کے پاکٹ یونین کو CBA کا سرٹیفکیٹ دیا ہے اور لیبر یونین کو دانستہ طور پر اس ریفرنڈم میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔ ان تمام زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف جب لیبر یونین کے عہدیداران نے صدائے احتجاج بلند کی تو ان کے خلاف دیوانی و فوجداری مقدمات قائم کروادئیے گئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور جعلی ریفرنڈم منسوخ کرکے نیا ریفرنڈم کروایا جائے جس میں لیبر یونین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ برطرف کئے گئے ورکرز کو فور ی طور پر بحال کیا جائے۔ تنخواہیں فور ی طور پر جاری کی جائیں۔ تمام ورکرز کے سوشل سیکورٹی پاس بنائے جائیں۔ خواتین کوحکومت کی اعلان کردہ کم از کم دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ادا کی جائے اور کسی بڑے حادثے سے نمٹنے کے لئے مؤثر اقداما ت کئے جائیں ورنہ حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔