[رپورٹ: کامریڈ دانیال]
مورخہ 22 اپریل بروز جمعرات کو کھائیگلہ میں مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔ سکول کا ایجنڈا ’’مارکسزم اور امریکہ‘‘ تھا۔ ایجنڈے پہ لیڈ آف کا مریڈ تنویر نے دی۔ کامریڈ نے اپنی لیڈ آف میں امریکہ کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ کامریڈ نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو یہاں بھی پندرہویں صدی سے پہلے قدیم کمیونسٹ سماج قائم تھا۔ طبقاتی نظام کا تعارف امریکہ میں یورپی نو آبادکاروں نے کروایاجس سے امریکہ کے شمالی خطے میں نوزائیدہ سرمایہ داری اور جنوب میں غلام داری پروان چڑھی۔ بعدازاں یہی تضاد 1860ء میں خانہ جنگی کی وجہ بنا جسکے بعد سرمایہ داری نے غلام داری کو شکست دی اور پورے امریکہ میں سرمایہ دارانہ سماج کی تعمیر کا عمل شروع ہوا۔ انیسویں صدی میں منڈیوں کے تسلط کی خاطر ہونے والی دو عالمی جنگوں سے امریکی سرمایہ داروں نے بیش بہا منافع کمایا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد امریکی حکمران طبقے نے 1920 ء سے 1932ء تک 58 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمائے جبکہ دوسری طرف دو عالمی جنگوں کی وجہ سے یورپ اور ایشیاکے سامراجی ممالک جن میں فرانس ،انگلینڈ، جرمنی،جاپان شامل ہیں کمزور ہو گئے۔ ان تمام تر کیفیات نے امریکہ کوایک نیا سامراجی ملک بنا کر ابھارا۔ اس سامراجیت کی وجہ سے امریکہ کو ایک وحشی ملک سمجھا جاتا ہے امریکہ میں بھی گہری طبقاتی خلیج موجود ہے۔ امریکہ کے20 فیصد امیر طبقہ کے پاس امریکہ کی کل دولت کا پچاس فیصد جبکہ نچلے بیس فیصد کے پاس صرف 3 فیصد ہے۔ امریکی نوجوانوں میں آج عدم اطمینان ،بے چینی بڑھتی جا رہی ہے اور محنت کش طبقے پر ہونے والاظلم و ستم اسکے شعور میں ایک معیاری جست کا باعث بنے گا۔ مستقبل میں امریکی محنت کش طبقہ اپنی ماضی کی انقلابی روایات کو دہراتے ہوئے ایک نیا انسانی معاشرہ قائم کریگا جو انسانیت کے بہتر مستقبل کے لئے ایک راستہ فراہم کریگا۔ لیڈ آف کے بعد دانیال عارف، ظہور عالم، ریحانہ اختر اورطارق نے کنٹری بیوشن میں حصہ لیا۔ آخر میں کامریڈ گلباز نے سوالات کی روشنی میں بحث کا سم اپ کیا۔ سکول کا اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔