[تحریر: قمرالزماں خاں]
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کی 17 مارچ کو جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2009ء اور 2013ء کے درمیان عالمی سطح پر بھارت اور، چین کے بعد پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک ہیں۔ پچھلے سال کی نسبت بھارت نے 111 فی صدجبکہ کہ پاکستان نے 119 فی صد زیادہ اسلحہ کی خریداری کی ہے۔ بدقسمتی سے دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ برآمد کرنے والے پہلے تینوں ممالک میں غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والوں کی آبادی باقی دنیا کی کل غریب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ بھارت میں کل آبادی کا 83 فی صد، پاکستان میں 72 فی صد جبکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی آبادی والے ملک چین میں آدھی سے زیاہ آبادی غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں زندگی بسر کررہی ہے۔ چین کے غریبوں میں سے 10 کروڑسے زائد وہ (غیر قانونی) لوگ ہیں جو چینی ماں باپ کی دوسری اولاد ہونے کی وجہ سے رجسٹرڈ شہری نہیں ہیں اور اس لئے اپنے ہی ملک میں انکی کوئی شناخت نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ دس کروڑ’’ غیر قانونی‘‘ بچے کسی بھی سرکاری ملازمت، شہری حقوق اور قانون کی چھتری حاصل نہیں کرسکنے کی وجہ سے بدترین استحصال کا شکار بننے پر مجبور ہیں۔ اسی دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں مزید 10 کروڑسے زائد لوگ گھر نہ ہونے کی وجہ سے خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان سب سے وسیع خلیج بھی چین میں موجود ہے۔ طبقاتی تضاد میں پہلے نمبر پر آنے والے اس ملک کے سامراجی عزائم میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔
دوسری طرف اس سال دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بھارت غربت کے اعشاریوں کی عالمی رینکنگ میں سب سے آگے ہے۔ ایک برطانوی ادارے ’’تحفظ اطفال ‘‘کے مطابق زچہ بچہ کی دیکھ بال اور صحت کی ناقص صورتحال کی وجہ سے بھارت میں ہر سال پیدائش کے دن ہی پانچ لاکھ اٹھانوے ہزار اڑتیس بچے فوت ہوجاتے ہیں جبکہ ہر ایک ہزار بچوں میں سے 126 بچے پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی مرجاتے ہیں جسکی وجہ غربت، بیماریاں اور علاج معالجے کی کمی ہے۔ بھارت کے صرف ایک شہر کولکتہ میں 70 ہزار سے زائد مائیں اپنی کوکھ میں پلنے والے بچوں کو جنم دینے کی بجائے اسقاط حمل کے ذریعے وقت سے پہلے ان بچوں کو ضائع کراتی ہیں تاکہ ان کے گردے اور دیگر اعضا ء بیچے جاسکیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹیاں بھی بھارت میں آباد ہیں۔ بھارت میں ہرسال ڈیڑھ لاکھ کے قریب مقروض کسان سود اور قرض کی ادائیگی نہ کرسکنے کی وجہ سے کیڑے مار ادویات کھا کرخودکشی کرلیتے ہیں۔ بھارت قومی حقوق کے استحصال میں بھی عالمی رینکنگ میں سب سے بلند مقام پر کھڑا ہے۔ ریاستی اور قومی اسمبلیوں، فلم انڈسٹری، کرکٹ سمیت دیگر شعبوں پر جرائم پیشہ اور مافیاز کا سکہ چلتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے زوال کے عہد میں معیشت اور معاشرت پر مختلف قسم کے مافیاز حاوی ہوچکے ہیں۔
عالمی سطح پراسلحہ کا تیسرابڑا درآمد کندہ پاکستان تعلیم، صحت، صاف پینے کی فراہمی، نکاسی آب پر سب سے کم خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبروں پر ہے۔ چونکہ اس وقت صوبہ سندھ کا صحرائی علاقہ تھر میڈیا کے فوکس پر ہے لہذا اب تک میڈیا رپورٹس کے مطابق بھوک، ادویات اور علاج معالجہ میسر نہ آنے کی وجہ سے 175 زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور مزیدہلاکتیں روزانہ جاری ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھوک کی وجہ سے ہلاکتیں میڈیا اور حکومت کی ابھی تک توجہ حاصل نہیں کرسکیں۔ صرف 2012ء میں خسرے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 310 تھی۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹ کے مطابق 2013 کے ابتدائی مہینوں میں ہی خسرے کے 12951 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور ان بچوں میں سے 290 وفات پاگئے۔ ’’تحفظ اطفال‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدائش کے دن ہی ایک ہزار میں سے 40.7 بچے موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ افغانستان، نائیجریا، سیری الیون، صومالیہ، گنی بساؤ میں حالات پاکستان کی نسبت قدرے بہتر ہیں اور پاکستان پہلے دن بچوں کی اموات کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ پاکستانی اسپتالوں میں ہر سال 57000 بچے علاج معالجے کی سہولت اور ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ پاکستان میں 63 فی صد بیماریاں غربت کی وجہ سے ہیں۔ آبادی کے صرف 25 فی صد شہری حصے میں واٹر سپلائی فراہم کی جاتی ہے جس میں مہیا کیا جانے والا پانی ’’قابل اعتبار‘‘ اور عالمی معیار کے مطابق نہیں ہوتا۔ پاکستان میں ہر چھٹا آدمی ہیپاٹائٹس جیسی موذی مرض میں مبتلا ہے۔ پولیو کیسز روز دریافت ہورہے ہیں۔
اسی طرح تعلیم کے شعبے کی زبوں حالی ہے، جہاں ریاست سب سے کم پیسے خرچ کرتی ہے اور ترجیح کے اعتبار سے بھی یہ شعبہ سارے ریاستی شعبوں اور اداروں میں آخری درجے پر ہے۔ سرکاری طور پر 54 فی صد خواندگی (جو کہ سراسر مشکوک ہے اور اپنا نام لکھ لینے والے کو خواندہ مانا جاتا ہے) کی شرح اکسویں صدی میں شرمناک ہے۔ گویا آدھی آبادی جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں سے انیس لاکھ بچوں کو مدرسوں اور ملاؤں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے، جہاں سے ہر سال سینکڑوں خود کش بمبار نمودار ہوتے اور تباہی مچاتے ہیں۔ اسلحہ کی درآمد میں پچھلے سال کی نسبت 119 فی صد اضافے کے مقابلے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں آبادی کے اضافے کے تناسب سے ہر سال کمی کی جارہی ہے۔ صرف 1973-74ء کے مالی سال میں جب ڈاکٹر مبشر حسن خان وزیر خزانہ تھے، ان دونوں شعبوں میں مجموعی طور پر بجٹ کا 42.3 فی صد خرچ کیا گیا تھا۔ مالی سال 2013-14ء کے بجٹ میں وفاق نے تعلیم پر 0.3 فی صد، پنجاب نے 0.7 فی صد، سندھ نے 0.5 فی صد، بلوچستان نے 0.1 فی صد، خیبر پختون خواہ نے 0.3 فی صدکی شرمناک رقوم خرچ کی ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے حکمران طبقے کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ 871 ارب روپے کے پنجاب کے بجٹ میں گیارہ کروڑ لوگوں کی صحت کے لئے کل 44.5 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ سندھ، پختون خواہ اور بلوچستان میں اس شعبے پر خرچ کی جانے والی رقم کا تناسب اس سے بھی کم ہے۔ اسی طرح اگر ہم صفائی اور گندے پانی کی نکاسی، ریل، سڑکوں، ہوائی سفر، روڈ ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اہم ضروریات زندگی کا سرسری سا بھی جائیزہ لیں تو ہر طرف تباہی اور بربادی کا منظر نظر آتاہے۔ سامان جنگ و حرب پر اربوں ڈالر خرچ کئے جانے والے ملک میں اندرونی سلامتی نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ امن وامان ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں غیرطبی بنیادوں پر ہوتی ہیں، جن میں مافیاز، منشیات فروشوں، جہادیوں، بھتہ اور قبضہ گروپوں کی باہمی چپقلش اور عوام پر حملوں کی وجہ سے ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ رقبے اور قدرتی وسائل کی بنیا د پر سب سے بڑا صوبہ بلوچستان سماجی بربادی، پسماندگی، پست معیار زندگی، سہولیات زندگی کی عدم فراہمی، جہالت، انفراسٹرکچراور بدامنی کی بنا پر پانچویں صدی میں زندگی گزار رہا ہے۔ مگر پاکستان کے جدید کہلوانے والے شہروں کے اندر بھی کئی شہر بس رہے ہیں۔ کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ حتہ کہ پنڈی اور اسلام آباد کے گردونواح میں ان شہروں کی نسبت ستر سے اسی فی صد کچی بستیاں نظر آتی ہیں، جن میں زندگی سسک رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے نیم کچے پکے گھروندوں میں انسانیت ا پنے عہد کی پیداوری صلاحیت، تکنیک اور سائنسی حاصلات کے سامنے شرمناک حد تک رسوائی کا شکار نظر آتی ہے۔ کچی بستیوں میں نیم خواندہ اور نیم ہنر مند انسانوں کا’’ خام مال‘‘ اور’’ بولنے والی مشینیں‘‘بس سرمائے کی غلامی کے لئے پناہ گزین کے طور پر زندگی بسر کرتی نظر آرہی ہیں، لہذا ان بستیوں میں ضروریات زندگی کی فراہمی، سٹرکوں، واٹر سپلائی، بجلی، گیس، اسٹریٹ لائیٹس، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ کی فراہمی کو حکمران طبقے نے فراموش کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف گلبرگ، ڈیفنس اوربحریہ ٹاؤن جیسے علاقے غربت کے سمندر میں امارت کے جزیروں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اسلحے کی خریداری میں جتنی بڑی رقم پاکستان کی مفلوک الحال ریاست خرچ کررہی ہے اسکے مقا بلے میں اگر معیشت کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستانی ریاست پر 17356 ارب روپے کا قرضہ ہے، یعنی ہر پاکستانی ایک لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں اور دوسرے ممالک کا 60 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور یہ قرضہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ سرکاری پرنٹنگ پریس مسلسل کرنسی چھاپ رہے ہیں اور یہ نوٹ حقیقی دولت کی بجائے محض کاغذ کے چیتھڑے ہیں۔ اسی وجہ سے افراط زر میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ بجٹ کا خسارہ بھی بڑھتا جارہا ہے اور معیشت کی سالانہ نمو (تمام تر جعلی اعداد وشمار اور جھوٹ کے باوجود) گراوٹ کا شکار ہے۔
ان حالات کے باوجود اسلحہ اور جنگی جنون کی بیماری بڑھتی جارہی ہے۔ ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی متذکرہ بالا رپورٹ حتمی رپورٹ نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے بعد خبر آئی ہے کہ پاکستان ناٹو فورسز اور امریکی افواج سے افغانستان میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ بھی خرید رہا ہے جسکی قیمت بھی پاکستان کے محنت کش طبقے کو ادا کری پڑے گی۔ اس ساری صورتحال میں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ کہاں خرچ ہوگا؟ بھارت اور پاکستان کے مابین کھلی جنگ کے امکانا ت نہ ہونے کی برابر ہیں۔ غیر ریاستی مسلح جتھوں (طالبان وغیرہ) کی سرکوبی کے لئے اتنے بڑے اسلحہ کی ضرورت بھی نہیں ہے اور پھر انکے خلاف کسی بڑے آپریشن کے امکانا ت بھی بظاہر کم ہوتے جارہے ہیں۔ ان مذہبی شدت پسندوں کے غیر ملکی آقا ان دنوں بہت متحرک ہیں۔ مولانا سمیع الحق کے دورہ سعودی عرب کے بعد ان مذہبی شدت پسندوں کو مالی، فکری، سفارتی امداد فراہم کرنے والے ’’برادر اسلامی ممالک‘‘ کے وفود یکے بعد دیگر پاکستان کے چکر لگارہے ہیں۔ اس کیفیت کا سب سے اہم پہلوخلیج میں عوامی بغاوتوں، سیاسی مزاحمت اور ممکنہ انقلابی لہروں کے ابھار کا پیش منظر ہے۔ بحرین اور سعودی عرب کے حکمرانوں کے بے چین دورے، ’’معاہدے‘‘ اور پاکستانی ریاست کو بھاری رقم کی فراہمی صرف شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف امریکی، قطری، سعودی حکومت کی اعانت میں القائدہ، النصر برگیڈ، فری سیرین آرمی، الاحرار الشام کے ساتھ ملکر خلفشار بڑھانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ بحرین اور سعودی عرب کے اندر لرزتی ہوئی بادشاہتوں کو درپیش ممکنہ بغاتوں اور شورشوں کی سرکوبی کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کی عسکری صلاحیت کو استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ایسا اس سے قبل بارہا ہوچکا ہے۔ بحرین میں فروری 2011ء میں عوامی بغاوت کو کثیر القومی افواج اور ریاستی بربریت سے کچلنے کے بعد پاکستان سے بڑے پیمانے پر سابق فوجیوں اور سیکورٹی سے متعلقہ افراد کو بھاری تنخواہوں پر خاندانوں سمیت بحرین لے جایا گیا جو پاکستانی ریاست کی اعانت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی آل سعود کے خلاف ہونے والی مسلح بغاوتوں اور خانہ کعبہ پر قبضہ قرار دیے جانے والے واقعہ پر پاکستان کی افواج کو استعمال میں لاکر ان شورشوں پر قابو پایا گیا تھا۔ 1970ء میں اردن میں پاکستان افواج کے ذریعے مبینہ طور پر 25 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرکے شاہ حسین کی مدد کی گئی تھی۔ افغانستان میں امریکی ڈالر جہاد میں بھی پاکستان نے امریکی سامراج کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ ماضی کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی عسکری قوت میں اضافہ اور اسلحہ کی خریداری پاکستان کے دفاع سے زیادہ خارجی مقاصد کے لئے ضروری ہے، جن کا تعین عام طور پر ’’اسلامی برادر ممالک‘‘ اور ریاست ہائے امریکہ کے حکمران کرتے ہیں۔ یہ ایک خوفناک ماضی کا تسلسل ہے، کیونکہ ہر عمل کے ردعمل میں خمیازہ صرف پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نتائج نہ صرف معیار زندگی کی گراوٹ کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں بلکہ مہنگائی، سامراجی غلامی، دھشت گردی پراکسی جنگوں اور ہلاکتوں کی شکل میں یہ ردعمل بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ 1.5 ارب ڈالر کی امداد نما سپاری، جہاں خلیج میں عوامی خواہشات کے قتل، شام، میں مزید ہلاکتوں اورجابر شیوخ اور شہنشاہوں کی مطلق العنان حکومتوں کی مضبوطی کا باعث بنے گی وہاں اسکی کئی گنا زیادہ قیمت پاکستان کے بے گناہ عوام ادا کرنا پڑے گی۔