پیپلز پارٹی کے پچاس سال: گولڈن جوبلی یا برسی؟
پارٹیاں عہد سے مطابقت رکھنے والے مسائل اور کرنٹ ایشوز کے مطابق اپنے انتخابی منشور تو ہر الیکشن سے قبل تبدیل کر سکتی ہیں۔ مگر کوئی بھی پارٹی اپنے قیام کے مقاصد کو بعد ازاں تبدیل نہیں کر سکتی۔
پارٹیاں عہد سے مطابقت رکھنے والے مسائل اور کرنٹ ایشوز کے مطابق اپنے انتخابی منشور تو ہر الیکشن سے قبل تبدیل کر سکتی ہیں۔ مگر کوئی بھی پارٹی اپنے قیام کے مقاصد کو بعد ازاں تبدیل نہیں کر سکتی۔
آج پچاسویں سالگرہ پر اِس بنیادی پروگرام سے پارٹی قیادت کے کھلے انحراف کو سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ غور و خوض کی ضرورت نہیں ہے۔
ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں بنیاد پرستوں کی جانب سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کئے جانے کے باوجود بھی اس تقریب میں انقلابِ روس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سندھ کے بیشتر شہروں سے بڑی تعداد میں نوجوانوں، خواتین اور محنت کشوں نے شرکت کی۔
حکمرانوں کی حاکمیت اتنی نحیف ہے کہ وہ اپنے حقیقی سیاسی اور اخلاقی کردار کی ایک ہلکی سی جھلک کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔
ایشیائی خطوں خصوصاً برصغیر میں کلاسیکی شکل میں غلام داری اور جاگیرداری کبھی بھی وجود نہیں رکھتی تھی۔
اس خطے کی مصنوعی آزادیوں سے کم از کم عوام نے یہ سبق ضرور سیکھا ہے کہ سفید کی جگہ سیاہ حکمران آنے سے حالات زندگی نہیں بدلتے۔
روس میں بھی پردے کے لیے سکارف اور چادروں کا استعمال درمیانے اور نچلے طبقات میں عام تھا۔ لیکن فروری کے انقلاب کا آغاز ہی محنت کش خواتین کے عالمی دن سے ہوا تھا۔
گو پچھلے چند سالوں کی پورے خطے میں شدت پکڑتی ہوئی پراکسی جنگوں کی لبنان میں بڑی مداخلت نہیں رہی تھی لیکن لبنان کی اپنی تاریخ میں بہت سے ایسے ادوار ہیں جہاں خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ خونریزی رہی ہے۔
سوویت طلبہ بیرون ممالک سے آنے والے طلبہ سے پوچھتے کہ آپ کی حکومت تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپکو کتنے پیسے دیتی ہے۔
انقلابِ روس انسانیت کی عظیم تاریخی جست تھی جس نے تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لئے موڑ دیا۔ اس کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ پورے کرہ ارض پر حکمران طبقات کے تخت لرزنے لگے۔
خواتین کے معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور جنسی استحصال کا اگر جائزہ لیا جاتا تو سب سے زیادہ مظلوم محنت کش طبقے کی خواتین ہیں۔