یخ بستہ روس میں انقلاب کی تپش

تحریر: عمران کامیانہ:-

ماسکو میں کل (۴ فروری) کو لاکھوں لوگ ایک بار پھر سخت سرد موسم کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور صدر پیوٹن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شفاف الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین’’پیوٹن سے پاک روس‘‘کے بینرزاٹھائے ہوئے تھے ۔وہ ولادیمیر پیوٹن اور مرکزی ایکشن کمیشن کے سربراہ کے فوری استعفے اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ ۴ دسمبر کو ہونے والے الیکشن میں صدر پیوٹن کی پارٹی نے مبیّنہ طور پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کی تھی جس کے بعد عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصّہ ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا اور بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ کل کے مظاہروں میں منفی18ڈگری درجہ حرارت کے باوجود 120000سے زیادہ افراد نے شرکت کی ہے جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ کریملن کے در و دیوار پر ایک لرزہ طاری ہے۔مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لئے 10000سے زائد پولیس اہلکار بھی موجود تھے تاہم تشدد کا کو ئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین میں بڑی تعداد میں کمیونسٹ پارٹی کے حامی موجود تھے جنہوں نے سوویت یونین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ اس کے علاوہ قوم پرست اور لبرل عناصر کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے۔
1991میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس میں طبقاتی خلیج بہت زیادہ بڑھی ہے۔ سرمایہ داری کی بحالی کے بعد غربت ، بیروز گاری اور جرائم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب سرمایہ دارانہ جمہوریت کا خواب بھی چکنا چور ہو چکا ہے۔ان تمام حالات کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں میں بہت زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ ایک بار پھر اپنے مسائل کا حل سوشلزم میں تلاش کر رہے ہیں۔حالیہ انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی کے ووٹوں کا دوگنا ہونا کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ لوگوں میں یہ سوچ تقویت پکڑتی جا رہی ہے کہ سٹالنزم کے تمام تر سیاسی اور سماجی مسائل کے باوجود سوویت روس میں زندگی کئی گنا سہل تھی۔
مظاہرین میں شامل ایک نوجوان انجینئر نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ ’’پیوٹن کی سربراہی میں تمام تر چور اقتدار میں آ چکے ہیں، حکمران لوگوں سے بات تک کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ ہمیں اقتدار میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہمارے مسائل پر بات کریں۔‘‘
اطلاعات کے مطابق اگلا بڑا مظاہرہ 5مارچ کو ہوگا ۔جبکہ دوسری طرف سیاسی حلقوں کی تمام تر توجہ 4 مارچ کو ہونے والے صدارتی الیکشن پر مرکوز ہے جس میں پیوٹن کے ساتھ ساتھ تین دوسرے امیدوار حصّہ لیں گے۔صدر پیوٹن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں شائد 50%ووٹ حاصل نہ کر سکیں جس سے ان کی ’’اتھارٹی‘‘ کو سخت دھچکا لگے گا۔

متعلقہ:

کیا سوویت یونین کے انہدام سے سوشلزم کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی ہے؟
روس: بالشویک میراث کی نئی اٹھان