باترتیب بد نظمی

تحریر: لال خان:-
(ترجمہ: عمران کمیانہ)

کینشین معیشت کے مشہور امریکی ماہر جان کینتھ گلبرتھ نے بھارتی جمہوریت کے بارے میں ایک بار کہا تھاکہ یہ’’ دنیا کا سب سے منظم انتشار ہے‘‘۔اگر پاکستانی ریاست اور سماج کا مشاہدہ کیا جائے تو پتاچلتا ہے کہ یہ بھی ارادتاً پیدا کردہ باترتیب بد نظمی و انتشار کے دردِزہ میں مبتلا ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سے یہ افرا تفری اور قتل و خون اسلامی بنیاد پرستوں کی سر پرستی میں جاری و ساری ہے اوراس سلسلے میں بنیاد پرستی کو ریاست کی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی ریاست نے یہ پالیسی اپنے آقا امریکی سامراج کے اشارے پر شروع کی تھی۔1980ء اور 90ء کی دہائی میں پاکستان میں ماسکو نواز اور بیجنگ نواز بائیں بازو کے انہدام سے پیدا ہونے والا خلا دراصل رجعت پسندی نے پرُ کیا اور ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مذہبی بنیاد پرستی کوخوب استعمال کیا۔جبکہ امریکیوں نے اس سفاک آمر کو افغانستان میں جاری ’ڈالر جہاد‘ کو چلانے اور اس خطے میں اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا، خاص طور پر سر د جنگ کے آخری عرصہ میں یہ پالیسی شدت اختیار کر گئی کیونکہ امریکیوں کو خود سوویت یونین کے انہدام کی توقع نہیں تھی۔
مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا میں امریکیوں نے خاص طور پر مذہبی تعصب کے ابھار کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا۔انڈونیشیا میں ہونے والا حالیہ تاریخ کا بد ترین قتلِ عام امریکی سی آئی اے نے اپنے پالتومذہبی جنونیوں کے ہاتھوں ہی کروایا۔30ستمبر 1965ء کو معروف قوم پرست رہنما سوئیکارنو کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے معزول کرنے کے بعد سامراجیوں نے انہی رجعت پسند عناصر کو فوجی آمر جنرل سہارتو کی قیادت میں انڈونیشیا میں موجود بائیں بازو کو کچلنے کیلئے استعمال کیا۔کمیو نسٹ پارٹی آف انڈونیشیا(PKI)سوویت بلاک کے باہر دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی تھی جس کے تیس لاکھ با ضابطہ ممبران کے ساتھ ساتھ دس لاکھ سیاسی ہمدرد مختلف تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں میں موجود تھے۔ستمبر 1965ء سے جنوری 1966ء تک مذہب کے ان ٹھیکیداروں کے ہاتھوں دس لاکھ سے زیادہ ’کافر سرخے‘ اور ان کے خاندان ذبح ہوئے۔زیادہ تر مذہبی جنونیوں کا تعلق انڈونیشیا کی مشہور بنیاد پرست جماعت نہدۃالعلماء کے یوتھ ونگ ’انسور ‘سے تھا۔اسی سال کے آغاز میں برطانوی سفیر سر انڈریو گلکرسٹ نے لندن بھیجے گئے ایک تار میں لکھا’’میںآپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ انڈونیشیا میں ’معمولی گولا باری‘ ایک موزوں تبدیلی کیلئے ضروری ہے۔‘‘ مارک کرٹس نے ’’جمہوری قتلِ عام‘‘ کے نام سے ’دی اکالوجسٹ‘ کے اداریے میں انکشاف کیا ’’1962ء میں سی آئی ا ے کی ایک یاد داشت میں بڑے اطمینان سے بیان کیا گیا کہ امریکی صدر کینیڈی اور برطانوی وزیرِ اعظم ہیرولڈ میکملن نے صورتحال اور دستیاب مواقع کے مطابق صدر سوئیکارنو کو ہٹانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔‘‘دیگر مشرقی ممالک میں بھی اسلامی بنیاد پرستوں اور سامراج کے گٹھ جوڑ کی تاریخ کچھ مختلف نہیں ہے۔
تاہم پیچیدہ صورتحال اس وقت جنم لیتی ہے جب ننگے استحصال اور موقع پرستی پر مبنی ان قوتوں کے مفادات میں لوٹ مار کے دوران ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔حتیٰ کہ آج بھی طالبان کے ایک سے زیادہ دھڑے ایسے ہیں جن کے امریکی سامراج کے ساتھ ہمیشہ سے قریبی مراسم استوار رہے ہیں۔طالبان کوئی یکجا اکائی نہیں ہیں اور نہ ہی اسلامی بنیاد پرستوں اور سامراج کے مابین کو ئی واضح نظریاتی اختلاف موجود ہے۔تضاد تب پیدا ہوتا ہے جب سامراج کی سر پرستی ایک سے زیادہ بنیاد پرست گروہوں کو حاصل ہوتی ہے۔جیسے ہی ’مقدس جنگجوؤں‘ کے کسی گروہ کو سامراجی پشت پناہی ملتی ہے تو اس گروہ کے اندر ’مالِ غنیمت‘ کی تقسیم اور حصہ داری پر دھڑے بندی کا آغاز ہوجاتا ہے۔وہ ایک ہی وقت میں لڑائی اور مذاکرات دونوں جاری رکھتے ہیں۔ یہ بھلا کیسانظریاتی تضاد ہے؟تاہم کوئی بھی تحریک جو ان کے مشترکہ سرمایہ دارانہ معاشی مفادات کے لئے خطرہ بنتی ہے تو اسے کچلنے کے لئے یہ ہمیشہ متحد رہے ہیں اور رہیں گے۔مشرقِ وسطیٰ میں جب عوامی آتش فشاں پھٹا اور اس خطے میں سامراج کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو اسلامی پارٹیاں ایک بار پھر اپنے آقاؤں کی خدمت گزاری کے لئے پیش پیش نظر آئیں۔جیسے ہی انقلاب کے زلزلے نے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلانا شروع کیا اور لوگ اپنے سماجی و معاشی مسائل حل کروانے سڑکوں پر آئے تو سامراج نے اسلامی بنیاد پرستوں سے مذاکرات کا آغاز کر دیا ۔مصر اور تیونس میں اسلامی بنیاد پرستوں سے ان کے معاملات جلد طے پا گئے جبکہ لیبیا کے معاملے میں انہوں نے راتوں را ت القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں اور گوانتانامو کے سزایافتہ بے شمار افراد کو ’آزادی پسند جنگجوؤں‘ کی صفوں میں شامل کروا دیا۔شام کے معاملے میں یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ سعودی عرب، قطر اور دوسری خلیجی ریاستوں کے جابر اور امریکہ کی ٹٹّو حکومتیں انتہائی بے شرمی کے ساتھ ’جمہوری شام کے دوست‘ بن کر ایک بار پھر سامراج کی دلالی کر رہی ہیں اوران کے ذریعے سے جاہل رجعتی عناصر کی پشت پناہی کر کے انہیں ’آزاد شامی فوج‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔
پاکستان میں مذہبی دہشت گردی کے حامی اپنی مکروہ اختراعات کا پرچار کسی ندامت و پشیمانی کے بغیر کر رہے ہیں۔وہ کھلم کھلا جہادی دہشتگردی اور معصوم انسانوں کے قتلِ عام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی پہلے ہی سماجی اور معاشی بدحالی کا شکار ہے اور اب مذہبی قصائیوں اور فرقہ وارانہ منافرت نے اس کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ان حالات میں سامراجی ایک بار پھر یہ کوشش کر رہے دائیں بازو اور اسلام پسندوں کا ایک اتحاد قائم کر کے اسے ایک سیاسی قوت کے طور پر مسلّط کیا جائے تاکہ سرمائے کی غلامی کو طول دیا جا سکے۔فوج، عدلیہ اور تباہ حال ریاست کے کچھ دوسرے دھڑے عوامی تحریکوں کو دبانے اورسماجی انتشار پیدا کر کے کسی ممکنہ انقلابی موج کا رخ موڑنے کیلئے ان عناصر کو استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔وہ ’جمہوریت‘ اور ’ترقی مخالف‘ کرداروں کے تنازعہ پر مبنی سامراجی ناٹک سے بھی خوب اچھی طرح واقف ہیں۔آخر آئی ایس آئی بھی تو اس ڈالر جہاد کا حصہ تھی جس میں سی آئی اے نے ان مذہبی جنگجوؤں کو پروان چڑھایا تھا۔
مذہب کا کردار ہمیشہ سے ایک سا نہیں رہا ۔اس عہد میں یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے ، نہایت منافع بخش کاروبار!امریکیوں نے ان بنیاد پرست عناصر اور ریاست میں موجود ان کے سر پرستوں کی خوب تربیت کی ہے کہ کس طرح منشیات کی خریدوفروخت اور دوسرے ناجائز طریقے اپنا کر نا صرف لامحدود دولت کمائی جا سکتی ہے بلکہ ’جہاد‘ کے خرچے بھی پورے کئے جا سکتے ہیں۔دنیا کے بیشتر دوسرے خطوں میں سامراجی جنگوں کے دوران یہی طریقہ کار استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ملا اشرافیہ اور اسلامی پارٹیاں بہت امیر ہیں۔گاؤں کا مولوی اب جاگیردار کے اناج اور مذہبی رسومات کی آمدن سے گزارہ نہیں کرتا۔مسجدیں خوب پھل پھول رہی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف مذہبی منافرت کا زہر اگل کر چندہ جمع کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمارے ’آزاد خیال، سیکولر اور جمہوری حکمران بھی سماجی بغاوتوں کا رخ موڑنے کیلئے مذہبی تعصب کا ہی سہارا لیتے ہیں۔’’اعتدال پسند اسلام‘‘ کا یہ نظریہ بے معنی و غیر معقول ہے۔اعتدال پسند اور شدّت پسند اسلام کے درمیان لکیر بہت ماند ہے۔رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع پر حاضری دینے والے سرمایہ دار،جرنیل،بیوروکریٹ اور سیاستدان دراصل حکمران طبقے کی رجعتی سوچ کو واضح کرتے ہیں۔کیا تبلیغی جماعت اعتدال پسند ہے؟ایک جدید سرمایہ دار انہ ریاست کو سیکولر ہونا چاہئے تاہم سرمایہ داری کے نامیاتی بحران میں ریاست رجعتیت اور ترقی مخالف عناصر کو ہوا دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔